“شاعری تخیل ہے”
مانتا ہوں میں..!!
پر کوئی بتائے تو,
باندھ کے ردیفیں
تخیلاتی غم کو..
کون پاگل لکھتا ہے؟؟
لکھا جانے والا غم..
ذاتی نہ بھی ہو تو,
تخیلاتی نہیں ہوتا…!!

‏قسمے بندا مر

جاندا اے

جگ توں جہڑا ڈر

جاندا اے

جیون بازی ہر

جاندا اے

منہ چوں نکلے بول

نہی بھلدے

زخم تے جھلیا بھر

جاندا اے

توں تے ماں دی گل

نہیں جردا

رب تان تیری جر

جاندا اے

اوہندی یاد جدوں

وی آوے

بدل اکھیوں ور

جاندا اے

بندا مٹی دا

جو بنیا

ہولی ہولی کُھر

جاندا اے

‏لجپالاں دے لڑ

جو لگدا

ڈبدا نہیں اوہ

تر جاندا اے

ہجراں دے وس پے

کے رضا

قسمے بندا مر

جاندا اے

مجھے وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔💕
جب میں تمہیں دن بھر کی داستان سناتی تھی۔
آج میں نے یہ کیا۔
آج میں نے وہ کیا۔
آج یہاں گٸ۔
آج وہاں گئی۔
آج امی نے ڈانٹا، آج میں روٸ آج میں بہت خوش ہوں، آج بہت اداس ہوں،ایسے کیا، ویسے کیا۔☺
آج میرے سر میں درد ہے۔😒
بولنے پر آتی تھی تو چپ کرنا بھول جاتی تھی، تم بھی چپ چاپ سُنتے رہتے تھے میری پاگل باتیں۔
مگر اب کسی سے کچھ بھی کہنے کا دل نہیں چاہتا۔
کتنی ہی تکلیف ہو کتنا ہی دُکھ ملے کسی کو نہیں سُناتی، تمہیں اپنی ذات تک رسائی دی تھی، تمہارے لہجے میں تلخیوں کے بعد، اپنی ذات کو دفن کردیا،تمہارے چلے جانے کے بعد میں نے چپ رہنا سیکھ لیا ہے
کبھی رک گئے، کبھی چل دیئے-
کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے-
یونہی عمر ساری گزار دی-
یونہی زندگی کے ستم سہے-

کبھی نیند میں-
کبھی ہوش میں-
تو جہاں ملا تجھے دیکھ کر-
نہ نظر ملی-
نہ زباں ہلی-
یونہی سر جھکا کر گزر گئے-

کبھی زلف پر-
کبھی چشم پر-
کبھی تیرے حسیں وجود پر-
جو پسند تھے میری کتاب میں-
وه شعر سارے بکھر گئے-

مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے-
مگر آج ہم ہیں جدا جدا-
وه جدا ہوئے تو سنور گئے-
ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے-

کبھی عرش پر-
کبھی فرش پر-
کبھی ان کے در-
تو کبھی دربدر-
غم عشق! تیرا شکریہ-
ہم کہاں کہاں سے گزر گئے-

فیض احمد فیض

بچھڑنا لازم بھی ہو تو کُچھ بھرم رکھنا ہوتا ہے.!
لاکھ ہوں رنجشیں درمیاں لہجہ نرم رکھنا ہوتا ہے.!

خواب نوچ لینا کافی نہ تھا کہ ہنسی بھی لے گئے.!
دل میں کُچھ رحم واسطے شریک جُرم رکھنا ہوتا ہے.!

نئے تعلقات نئے لوگ آزمانے سے کہیں بہتر.!
مُقدس رشتوں میں قائم اِک ہی محرم رکھنا ہوتا ہے.!

اب راستے الگ کرنے سے پہلے سوچ لینا ستمگر.!
جُھوٹی محبت میں بھی عزت کا بھرم رکھنا ہوتا ہے.!

رشتے نبھانے مُشکل ہوں تو قائم نہیں رہتے کبیر.!
محبت کے مُجرم کو بنا کے محرم رکھنا ہوتا ہے.!

یاد رکھنا پُتر!
محبت میں محبوب اگر انسان ہو تو اُسکی مِنّت نہیں کیا کرتے۔ انسان پتھر ہو جایا کرتا ہے۔
بار بار مُڑ کر دیکھتا ہے کہ کبھی تو اُسکی مِنّتوں اور التجاوں کی لاج رکھی جائے گی۔
وہ انتظار کرتا ہے کہ کب محبوب کے دل پہ لگا قفل ٹوٹے گا۔
حالانکہ قفل تو خود اُسکے اپنے دل پہ لگ چکا ہوتا ہے۔
محبت میں بس پیدا کرنے والے کی مِنّتیں کرتے ہیں۔ پتہ ہے کیوں؟؟
کیونکہ وہ آزما رہا ہوتا ہے میرا بندہ خود کو میرا کتنا محتاج سمجھتا ہے۔
اور محتاج کیوں نہ ہو بندہ۔ وہ خالق ہے، رازق ہے۔
پھر جب تم اسکے آگے گڑگڑاو گے تو وہ پتہ ہے کیا کرے گا؟
وہ تمہارا بھرم رکھ لے گا!
انسان یہ نہیں کرتے۔۔
یہ بس رب کرتا ہے۔
کیونکہ وہ بے نیاز ہے۔۔
زندگی کو تنہا___ویرانوں میں رہنے دو💞
وفا کی باتیں____خیالوں میں رہنے دو

دل بھر جانے کے بعد_تنہا چھوڑ جاتے ہے لوگ💞
میں تنہا ہی ٹھیک ہوں*مجھے تنہائیوں میں رہنے دو.

اِنکساری مزاج میں رَکھی
زِندہ رہنے کا حوصلہ ، رَکھا
کرلئے بند ، سارے دروازے
دِل درِیچہ مگر کُھلا ، رَکھا

شِہر والوں کو روشنی، بانٹی
گھر میں چھوٹا سا اِک دِیا رَکھا
اُس کی تَعظیم کی مگر میں نے
چَند قدموں کا فاصلہ،_ رَکھا…..

مَیں پیاس ہوں جیسے صحرا کی.
تُو چشمہ ٹھنڈا ٹھار .. پیا!
مُجھے عشق اُڑائے پھرتا ہے
اِس پار کبھی اُس پار .. پیا!
کس جال سےتُو نے باندھا ہے،
مَیں بُھول گيا سب وار .. پیا!
تُو ڈال قفس میں، خوش نہ ہو
تیری جیت ہے ، تیری ہار پیا..!
تو روگ ہے، اندر پلتا ہے
مَیں ازلوں سے بیمار پیا..!
میرے عشق نے پہنا آئینہ
آ ، تو بھی پتھر مار پیا ..!
تیرے نام پہ کیسے بِکتا ہوں
آ دیکھ، سرِ بازار پیا..!
میرا عشق جنوں سے ڈھلنے لگا
انجام ہے تختہ دار پیا ..
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے

بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن
چاند بس ایک عدد ہے، حد ہے

اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ ترے ضبط کی حد ہے حد ہے

💞💕سُن کے چوڑی فروش کی آواز.💞
💞تیری نازک کلائی بہت یاد آئی.
نہ جانے کس کے مقدر میں لکھے ہو تم
سچ تو یہ ہے کہ امیدوار ہم آ ج بھی ہیں۔
آج میں نے وہ ہی شرٹ پہنی ہے جو اسے پسند تھی
آج مجھے کسی نے نہیں کہا تم پیارے لگ رہے ہو
مرشد میں جل رہا ہوں، ہوائیں نہ دیجئیے،،
مرشد ازالہ کیجئیے، دعائیں نہ دیجئیے…..!